شہد کی مکھیوں کی انفرادی خوبیاں
شہد کی مکھیوں کا تعلق خاندان اےپیڈی (Family Apidae) سے ہےاور یہ خاندان قدرتی طور پر یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں پایا جاتا تھا۔ اس خاندان کے تمام مکھیوں کے کوم (Comb):
- عمودی یعنی Vertical اور
- دوہری سطح یعنی (Double-sided) والے ہوتے ہیں۔
پہاڑی مکھی
Apis cerana Fabricius (1793)
شہد کی پہاڑی مکھی ہمارے ملک کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں کے لوگ انہیں اپنے گھروں کی دیواروں میں بنائے گئے مخصوص رخنوں میں پالتے ہیں۔ قدرتی طور پر یہ بند جگہوں میں اپنے متوازی چھتے بنا
لیتی ہے۔ یہ مکھی اپنی ان مخصوص عادت کی وجہ سےلکڑی کے بنائے گئے مخصوص گھروں میں پالنے کےلئے موزوں ہے اور اسے ہم پالتو مکھی کہ سکتے ہیں۔ ان کے چھتےمیں پروپولس کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے چھتے کو موم کا کیڑا لگ
جاتا ہے۔ ایک چھتے سے چار سے چھ کلو شہد مل جاتا ہے۔ ان میں سوارمنگ رجحان
ملی فیرا کی نسبت زیادہ ہے۔ مکھیوں کی یہ قسم طبعاً شریف مزاج اور محنتی ہے۔
ہر شہد کی مکھی کے پیٹ کے نو حصے ہوتے ہیں۔ میدانی علاقوں کی سیرانا مکھیوں کے پیٹ کے دو سے لیکر چار حصے پیلے رنگ کے ہو تے ہیں۔ کارکن مکھی کے خانے 4.23 ملی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں۔ سیرانا مکھی ملیفیرا مکھی سے چھوٹی ہوتی ہے۔ اس کے پچھلے پر اور ملیفیرا کے پچھےپر میں رگیں قریباً ایک جسی ہیں مگر سیرانا کے پرمیں ایک چھوٹی سی رگ پر کے چوڑائی والے حصے میں اضافی ہوتی ہے۔
![]() |
| Apis cerana |
یورپین مکھی
Apis millifera Linnaeus
اس کا اصل وطن پورپ ہے مگر اس کو امریکہ اور آسٹرالیشاء میں بہت کامیابی سے پالا جا رہاہے۔ اس کی پانچ مختلف ذیلی اقسام (Races) ہیں۔ اطالوی قسم لائگسٹیکا (ligustica) مگس بانوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ 'سیرانا' سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کے بپیٹ کے پہلے تین حصوں پر پیلی پٹیاں ہوتی ہیں اور بال سرخ ہوتے ہیں۔ تمام صنعتی بنیادوں پر کام کرنے والے مگس بان اس ہی کو پال کر منافع کماتے ہیں۔ دوسری قسم 'کارنیکا' (carnica) کچھ مگس بانوں کی پسندیدہ قسم ہے مگر یہ سوارمنگ کا رجحان رکھتی ہے۔ تیسری قسم 'قاکیزیکا' (caucasica) گہرے رنگ کی مکھی ہے جس کے چھتے کے اندر داخل ہونے کے رستے کے علاوہ باقی کے چھتے میں بے شمار پروپولس (Propolis) موجود ہوتا ہے۔ جرمنی کی 'اسکینڈی نےویا' (Scandinavia) اور برطانیہ کی 'لہزےنی' (Lehzeni) وغیرہ کی زبان باقی قسموں کی نسبت چھوٹی ہے۔
افریقی قسم 'ایڈانسونی' ( Apis mellifera adansoni) افریقہ بھر شہد کےلئے پالی جاتی ہے۔ مگریہ کچھ حد تک جلدی حملہ کردینے والی ہے۔ مصر میں 'لےمارکی' (Lamarkii) اور تیونیزیا میں 'انٹرمیزا' (intermissa) اقسام موجود ہیں۔ 'انٹرمیزا' سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور اس کے پیٹ پر ہلکے سیاہ یعنی 'گرے' بال ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 'میڈاغاسکر' جزیروں (Madagascar Islands) کی قسم یونیکلر ((unicolor Latreille (1804) مکمل طورپر کالی ہے اور اس کے پیٹ پر سیاہ بال بھی نہیں ہوتے۔
اس کے ایک چھتے سے قریباً تیس سے پچپن
کلو تک کا شہد مل جا تا ہے۔ اس میں کئی ایسی خوبیاں ہیں جسکی وجہ سے نہ صرف
پاکستان بلکہ دنیا بھر کے دوسرے ملکوں میں اسی کو شہد حاصل کرنے کےلئے
پالا جاتا ہے۔ پہلی خوبی یہ ہے اس کی ملکہ میں انڈے دینے کی بے انتہا
صلاحیت ہے۔ اس کی دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں سوارمنگ رجحان کم ہے۔
یعنی چھتہ تیار ہونے پر مکھیاں اپنا غول لیکر اڑ نہیں جاتی اور یوں کالونی
ٹوٹتی نہیں۔ تیسری خوبی یہ ہے کہ یہ صرف تاریک جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ اس
کا مطلب یہ ہے کہ اسکے چھتے کھلی جگہوں پر نہیں ملے گے اوریہ مگس دانوں
میں ہی چھتہ بنائے گی۔
ڈومنا /بڑی مکھی
Apis dorsata or Giant Honeybee
سائز میں باقی مکھیوں سے بڑی ہوتی ہے۔ چھتے کو چھیڑنے والے کے درپے ہو جاتی ہے اور دور تک اس کا پیچھا کرتی ہے۔ بعض اوقات لوگ اس کے ڈنگ کے شکار ہونے بعد موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ یہ صرف کھلی جگہوں پر ہی رہتی ہے اسی وجہ سے اس کو ڈبوں میں پالنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔
اس کے چھتےقدرتی طورپر بڑے ہوتے ہیں اور اسی لئے بڑے اونچے درختوں پر نظر آتے ہیں۔ چھتے ایک سے دو میٹر تک لمبے اور تین فٹ تک چوڑے ہوتے ہیں۔ چھتے کے اوپر والا حصہ تین سے چار انچ موٹا ہوتا اور اس حصے میں شہد کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ چھتے کا نچلا حصہ ڈیڑھ انچ تک موٹا ہوتا ہے اور اس حصے میں ان کے بچے پرورش پارہے ہوتے ہیں۔ چھتے کے خانے 1/5 انچ کے برابر ہوتے ہیں اور یہی سائز 'ملیفیرامکھی' کے خانوں کا بھی ہے مگر ڈومنا کے خانوں کی گہرائی دگنی ہوتی ہے۔ اس کے نکھٹو اور کارکن مکھیوں کے خانوں کا سائز برابر ہوتا ہے۔
ایک چھتے سے تیس سے چالیس کلو کا شہد مل جاتا ہے۔ اس میں سوارمنگ رجحان بہت زیادہ ہے اس وجہ سے بھی اس کو ڈبوں میں نہیں پالتے۔ یہ سطح سمندر سے لیکر گیارہ سو میٹر کی بلندی تک ہجرت کرتی نظر آتی ہے۔ یعنی کہ ایک موسم میں یہ کسی میدانی علاقے میں ہو گی اور دوسرے موسم میں یہ پہاڑوں پر چلی جائے گی۔ اس طرح یہ مکھی خانہ بدوش مکھی ہے۔
چھوٹی مکھی
Apis florea or Little Honeybee
'اےپس' جینس میں سب سب چھوٹے سائز کی مکھی ہے۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے یہ چھوٹے چھوٹے پھولوں میں سے ہی
نیکٹر حاصل کرتی ہے۔ یہ پھول باقی اقسام کی مکیھوں کے بڑے ماؤتھ پارٹس کی
وجہ سے ان کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کے چھوٹے چھتے جھاڑیوں اور چھوٹے درختوں کی شاخوں سے لٹکے نظر آتے ہیں۔ اس کے خانوں (Cells) کا سائز قریباً 1/10 انچ تک ہوتا ہے اسی لئے کم مقدار میں شہد حاصل ہوتا ہے۔ مگر اس کا شہد دوائیوں وغیرہ کےلئے ضرور حاصل کیا جاتا ہے۔ باقی مکھیوں میں سائز میں چھوٹی ہونے کے علاوہ اس کے پیٹ کا پہلا حصہ یعنی سیگمینٹ بڑا اور پیلا ہوتا ہے۔
اس کو مگس دانوں کے اندر نہ پالنے کی
کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً اس میں سوارمنگ رجحان بہت زیادہے۔ دوسرا یہ کسی حد
تک ڈومنا کی طرح خطرناک ہے مگر ڈومنا جیسی خطرنا ک نہیں۔قدرتی طورپر اس کے
چھتے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور ایک چھتہ سے چند اونس ہی شہدحاصل ہوتاہے۔

No comments:
Post a Comment