شہد کی مکھیوں کی جسمانی ساخت اور نشوو نما
تما م کیڑوں کی طرح شہد کی مکھی کا جسم بھی تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
- سر۔ اسکے اوپرآنکھیں، اینٹینے اور دہن پارے (Mouthparts) ہوتے ہیں۔
- دھڑ۔ اس پر 'پَر' اور ٹانگیں جڑی ہوتی ہیں۔
- پیٹ۔ سب سے بڑا اور سب سے نرم حصہ ہوتا ہے۔ اسی میں زیادہ تر جسمانی نظام موجود ہوتے ہیں۔
شہد کی مکھی کا سر
اگر شہد کی مکھی کے سر کو سامنے سے دیکھا جائے تو وہ تقریباً 'تکونا یا مثلث نما' ہوتا ہے۔ اسکے اطراف پر' مرکب آنکھیں' (Compound Eyes) ہوتی ہیں۔ اس کے اوپر تین سادہ آنکھیں (Simple Eyes) ہوتی ہیں۔ ایک نکھٹو کی کمپاؤنڈ یا مرکب آنکھیں کارکن مکھیوں کی نسبت بڑی ہوتی ہیں مگر ملکہ کی آنکھیں نکھٹو کی نسبت چھوٹی ہوتی ہیں۔ 'اینثینے '(Antennae) سر کے درمیان میں ایک دوسرے کے قریب جڑے ہوتے ہیں۔ ہر اینٹینا کی ایک بنیادی ڈنڈی یا بیسل سٹالک (Stalk) یا سکیپ (Scape) ہوتی ہےاور اس کے بعد بے شمار چھوٹے چھوٹے رنگز ہوتے ہیں جس سے لچکدار فلیجیلم (Flagellum) بنتا ہے۔ کارکن اور ملکہ کے اینٹینا میں گیارہ چھوٹے رنگز ہوتے ہیں مگر نکھٹو کے اینٹینا میں بارہ ہوتے ہیں۔ اینٹنے انتہائی حساس عضو ہیں۔ یہ چھونے اور کیمائی مادوں کو چیک کرنے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ان کے دہن پاروں میں سخت
- چبانے والے ٹکڑے/ بالائی جبڑے(Mandible)
- بالئی ہونٹ (Labrum)
- نیچے والا ہونٹ (Labium)
- زبان (Ligula/Glossa/Tongue)
- نیچے والے جبڑے (Maxillae)
- ایپیفیرنکس (Epipharynx)
چبانے والےجبڑے(Mandible)
دہن کے دائیں بائیں موجود ہوتے ہیں۔ ان کی اندرونی سطح ملکہ اور نکھٹو میں دندانےدار جبکہ کارکن مکھی میں ہموار ہوتی ہے۔ کارکن مکھیاں ان سے مومی کوم تیار کرتی ہیں۔
بالئی ہونٹ (Labrum)
یہ سر کے ساتھ کلائیسیپ ٹکڑے کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔
نیچے والا ہونٹ (Labium)
یہ سب سے اہم اور پیچیدہ حصہ ہے۔ اس کے حصے درج زیل ہیں۔
- سب مینٹم
- مینٹم
- لگیولا/گلاسا/ٹنگ
نیچے والے جبڑے (Maxillae)
یہ مینٹم کے اوپر جڑے ہوتے ہیں۔ یہ بھی لےبی ایل پیلب کی طرح لمبے اور ان کے دائیں بائیں لگے ہوتے ہیں اور ان کو 'میگزلری پیلپ ' کا نام دیا جاتا ہے۔
دھڑ
دھڑ، سخت گول سا حصہ ہے جو کہ چار باہم جڑے ہوئے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دھڑ کے اندر زیادہ تروہ پٹھے ہیں جوکہ پروں، ٹانگوں اور سر اور پیٹ کو حرکت دیتے ہیں۔
دھڑ
دھڑ، سخت گول سا حصہ ہے جو کہ چار باہم جڑے ہوئے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دھڑ کے اندر زیادہ تروہ پٹھے ہیں جوکہ پروں، ٹانگوں اور سر اور پیٹ کو حرکت دیتے ہیں۔
- پہلا حصہ پروتھاریکس ہے جس پر ٹانگوں کا پہلا جوڑا ہوتا ہے۔
- دوسرا حصہ میزو تھاریکس ہے جو کہ دھڑ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس پر پروں کا پہلا جوڑا اور ٹانگوں کا دوسرا جوڑا موجود ہوتا ہے۔
- تیسرا حصہ میٹا تھاریکس ہے اس پر پچھلی ٹانگوں کا جوڑا اور پچھلے پر ہوتے ہیں۔
- چوتھا حصہ پروپوڈیم ہے۔ یہ صرف پشت پر ایک پلیٹ کی صورت میں موجود ہے۔
ہر ٹانگ کے بیسی ٹارسس پر بال ہوتے ہیں جو کہ جسم کی صفائی کےلئے اور جسم پر لگے ہوئے پولن کو اکٹھا کرنے کےلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اگلی ٹانگ کے بیسی ٹارسس میں ایک کھائی ہوتی ہے جو کہ اس ٹانگ کی ٹیبیا کی مدد سے اینٹینا کی صفائی کرتی ہے۔ درمیانی ٹا نگوں کی ٹیبیا پرلگے ہوئے کانٹے کا مقصد ابھی تک معلوم نہیں ہے جبکہ پچھلی ٹانگوں کی ٹیبیا خاص طورپر چوڑی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی ٹانگوں کی ٹیبیا پر لگے ہوئے خمدار بال بھی ہوتے ہیں۔ ٹیبیا پر ایک کھائی ہوتی ہے جسکے ارد گرد بال ہوتے ہیں۔ یہ پولن باسکٹ ہے۔ اگلی اور درمیانی ٹانگیں جو پولن جسم سے اکٹھا کرتی ہیں وہ پچھلی ٹانگوں کے بیسی ٹارسائی پر پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ پھر یہاں سے ٹیبیا کے پولن ریک ان کو ٹیبیا اور ٹارسس کے جوڑ میں ایک کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہاں سے پولن ، پولن باسکٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment