Bees-Honey
Sunday, October 6, 2013
Saturday, September 28, 2013
شہد کی مکھیوں کی جسمانی ساخت اور نشوو نما
شہد کی مکھیوں کی جسمانی ساخت اور نشوو نما
تما م کیڑوں کی طرح شہد کی مکھی کا جسم بھی تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
- سر۔ اسکے اوپرآنکھیں، اینٹینے اور دہن پارے (Mouthparts) ہوتے ہیں۔
- دھڑ۔ اس پر 'پَر' اور ٹانگیں جڑی ہوتی ہیں۔
- پیٹ۔ سب سے بڑا اور سب سے نرم حصہ ہوتا ہے۔ اسی میں زیادہ تر جسمانی نظام موجود ہوتے ہیں۔
شہد کی مکھی کا سر
اگر شہد کی مکھی کے سر کو سامنے سے دیکھا جائے تو وہ تقریباً 'تکونا یا مثلث نما' ہوتا ہے۔ اسکے اطراف پر' مرکب آنکھیں' (Compound Eyes) ہوتی ہیں۔ اس کے اوپر تین سادہ آنکھیں (Simple Eyes) ہوتی ہیں۔ ایک نکھٹو کی کمپاؤنڈ یا مرکب آنکھیں کارکن مکھیوں کی نسبت بڑی ہوتی ہیں مگر ملکہ کی آنکھیں نکھٹو کی نسبت چھوٹی ہوتی ہیں۔ 'اینثینے '(Antennae) سر کے درمیان میں ایک دوسرے کے قریب جڑے ہوتے ہیں۔ ہر اینٹینا کی ایک بنیادی ڈنڈی یا بیسل سٹالک (Stalk) یا سکیپ (Scape) ہوتی ہےاور اس کے بعد بے شمار چھوٹے چھوٹے رنگز ہوتے ہیں جس سے لچکدار فلیجیلم (Flagellum) بنتا ہے۔ کارکن اور ملکہ کے اینٹینا میں گیارہ چھوٹے رنگز ہوتے ہیں مگر نکھٹو کے اینٹینا میں بارہ ہوتے ہیں۔ اینٹنے انتہائی حساس عضو ہیں۔ یہ چھونے اور کیمائی مادوں کو چیک کرنے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ان کے دہن پاروں میں سخت
- چبانے والے ٹکڑے/ بالائی جبڑے(Mandible)
- بالئی ہونٹ (Labrum)
- نیچے والا ہونٹ (Labium)
- زبان (Ligula/Glossa/Tongue)
- نیچے والے جبڑے (Maxillae)
- ایپیفیرنکس (Epipharynx)
چبانے والےجبڑے(Mandible)
دہن کے دائیں بائیں موجود ہوتے ہیں۔ ان کی اندرونی سطح ملکہ اور نکھٹو میں دندانےدار جبکہ کارکن مکھی میں ہموار ہوتی ہے۔ کارکن مکھیاں ان سے مومی کوم تیار کرتی ہیں۔
بالئی ہونٹ (Labrum)
یہ سر کے ساتھ کلائیسیپ ٹکڑے کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔
نیچے والا ہونٹ (Labium)
یہ سب سے اہم اور پیچیدہ حصہ ہے۔ اس کے حصے درج زیل ہیں۔
- سب مینٹم
- مینٹم
- لگیولا/گلاسا/ٹنگ
نیچے والے جبڑے (Maxillae)
یہ مینٹم کے اوپر جڑے ہوتے ہیں۔ یہ بھی لےبی ایل پیلب کی طرح لمبے اور ان کے دائیں بائیں لگے ہوتے ہیں اور ان کو 'میگزلری پیلپ ' کا نام دیا جاتا ہے۔
دھڑ
دھڑ، سخت گول سا حصہ ہے جو کہ چار باہم جڑے ہوئے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دھڑ کے اندر زیادہ تروہ پٹھے ہیں جوکہ پروں، ٹانگوں اور سر اور پیٹ کو حرکت دیتے ہیں۔
دھڑ
دھڑ، سخت گول سا حصہ ہے جو کہ چار باہم جڑے ہوئے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دھڑ کے اندر زیادہ تروہ پٹھے ہیں جوکہ پروں، ٹانگوں اور سر اور پیٹ کو حرکت دیتے ہیں۔
- پہلا حصہ پروتھاریکس ہے جس پر ٹانگوں کا پہلا جوڑا ہوتا ہے۔
- دوسرا حصہ میزو تھاریکس ہے جو کہ دھڑ کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس پر پروں کا پہلا جوڑا اور ٹانگوں کا دوسرا جوڑا موجود ہوتا ہے۔
- تیسرا حصہ میٹا تھاریکس ہے اس پر پچھلی ٹانگوں کا جوڑا اور پچھلے پر ہوتے ہیں۔
- چوتھا حصہ پروپوڈیم ہے۔ یہ صرف پشت پر ایک پلیٹ کی صورت میں موجود ہے۔
ہر ٹانگ کے بیسی ٹارسس پر بال ہوتے ہیں جو کہ جسم کی صفائی کےلئے اور جسم پر لگے ہوئے پولن کو اکٹھا کرنے کےلئے استعمال ہوتے ہیں۔ اگلی ٹانگ کے بیسی ٹارسس میں ایک کھائی ہوتی ہے جو کہ اس ٹانگ کی ٹیبیا کی مدد سے اینٹینا کی صفائی کرتی ہے۔ درمیانی ٹا نگوں کی ٹیبیا پرلگے ہوئے کانٹے کا مقصد ابھی تک معلوم نہیں ہے جبکہ پچھلی ٹانگوں کی ٹیبیا خاص طورپر چوڑی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی ٹانگوں کی ٹیبیا پر لگے ہوئے خمدار بال بھی ہوتے ہیں۔ ٹیبیا پر ایک کھائی ہوتی ہے جسکے ارد گرد بال ہوتے ہیں۔ یہ پولن باسکٹ ہے۔ اگلی اور درمیانی ٹانگیں جو پولن جسم سے اکٹھا کرتی ہیں وہ پچھلی ٹانگوں کے بیسی ٹارسائی پر پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ پھر یہاں سے ٹیبیا کے پولن ریک ان کو ٹیبیا اور ٹارسس کے جوڑ میں ایک کھائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہاں سے پولن ، پولن باسکٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔
Wednesday, September 11, 2013
کوم Comb
کوم یا Comb
مکھیاں اپنے چھتے اس جگہ بناتی ہیں :-
کوم کی تعریف:
"کوم چھتے میں ایسی جگہ ہے جو کہ مکھیوں کواپنے بچوں کو پالنے اور خوراک کو جمع کرنے کےلئے جگہ فراہم کرتی ہے۔ "
کوم کی تیاری:
مثال:
- جوازخود پانی سے محفوظ ہو یا مکھیاں اس کو پانی سے محفوظ بنا سکیں۔
- جو مکھیوں کو دشمنوں سے محفوظ رکھ سکے۔
- جو گرمیوں میں بہت زیادہ گرم نہ ہو جائے۔
- جہاں ہوا می مناسب آمدو رفت ہو۔
کوم کی تعریف:
"کوم چھتے میں ایسی جگہ ہے جو کہ مکھیوں کواپنے بچوں کو پالنے اور خوراک کو جمع کرنے کےلئے جگہ فراہم کرتی ہے۔ "
کوم کی تیاری:
کوم بنانے کےلئے مکھیاں اپنی موم استعمال کرتی ہیں۔ ہر مکھی کے پیٹ پر چار موم بنانے والے غدود کے جوڑے ہوتے ہیں۔ مکھیوں کو موم بنانے کےلئے شہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہد کھانےکے چند گھنٹوں کے بعد مکھیوں کے پیٹ کے موم والے غدود مائع موم بنانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ مائع موم چھوٹے چھوٹے ٹھوس چھلکوں کی شکل میں ان کے پیٹ کے جوڑوں میں موجود جگہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ان چھلکوں کو ٹانگوں کی مدد سے مکھی اپنے جبڑوں تک پہنچاتی ہے اور جبڑے موم کی تہہ بنا کراس سے مومی چادر اور خانے بناتے ہیں۔
- پہلے موم کو چھتے کے کچھ بالائی حصے کےساتھ جوڑا جاتا ہے۔
- پھر تھوڑی سی درمیانی ہموارسطح (Midrib) تیار کی جاتی ہے۔
- آخر میں چھ کونہ خانے اس ہموار سطح کی دونوں اطراف بنائے جاتےہیں۔
جیسے جیسے یہ کوم بڑا ہوتا جاتاہے اس کوچھتے کے خانے کی باقی بالائی سطح کے علاوہ دائیں بائیں کی دیواروں سے بھی جوڑتی چلی جاتی ہیں
![]() |
| 'ہموار سطح' Midrib of Comb as |
جب ہم مصنوعی کوم کا فریم ،بکس کےلئےتیار
کرتے ہیں تو اس وقت ایک تیار شدہ مومی شیٹ فریم کے اندر لگا دیتے ہیں۔ یہ
مومی شیٹ مکھیوں کا آدھا کام ختم کردیتی ہے اور مکھیوں نے صرف اس پر چھ
کونہ خانے بنانے ہوتےہیں۔ مگر جب مکھیاں خود سے کوم بناتی ہیں تو اس وقت وہ
مکمل شیٹ تیار نہیں کرتی بلکہ شیٹ کا کچھ حصہ اور پھر اس کے اوپر کچھ خانے بناتی ہیں۔
نکھٹو کے خانے قریباً 1/4 انچ کے قریب بڑے ہوتے ہیں۔ عام طورپر کارکن مکھیوں کے خانے نکھٹو ؤں کے خانوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔
ان دونوں طرح کے خانوں میں شہد اور پولن بھی جمع کیا جاسکتا ہے۔
ملکہ کے خانےصرف اس وقت بنتے ہیں جب نئی ملکہ کی ضرورت ہو۔ عام طورپر مکھیاں'پلےکپس' (Play Cups)بناتی رہتی ہیں۔ یہ ملکہ کے ادھورے خانے ہوتے ہیں۔ ملکہ کے خانے اس وقت بنتے ہیں جب کالونی کوسوارمنگ کی خواہش ہو، یا ملکہ بہت بوڑھی ہو جائے اور یا جب ملکہ کو کوئی حادثہ وغیرہ ہو جائے۔ ملکہ کے خآنے عمودی، نیچے کی جانب اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ملکہ کے خآنے تین طرح کے ہو سکتے ہیں۔
سوارم خانے (Swarm Cells) عام طور پر کوم کی اطراف یا کوم کے نیچے کی جانب بنیں گے۔
سپر سیڈیور خانے (Supersedure Cells) تعداد میں چند اور کوم کی سطح پر ہوتے ہیں۔
ایمرجنسی خانے (Emergency Cells) سیدھے چھتے کی مِڈرِب (Midrib) یعنی ہموار سطح سے بنتےہیں۔ ایسی صورتحال میں عام کارکن کے انڈے کو استعمال میں لا کر ملکہ کو بنایا جاتا ہے۔
ملکہ سب سے پہلے انڈے چھتے کے درمیان میں دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ باہر کی طرف دیتی جاتی ہے۔ اس طرح سب سے پہلے مکھیاں درمیان میں سے نکلیں گی۔
کوم کے چھ کونہ خانے (Comb Cells)
ایک کوم میں تین طرح کے خآنے ہوتے ہیں۔ جن خانوں میں کارکن مکھیاں پیدا ہوتی ہیں وہ سب سے چھوٹے خانے ہوتے ہیں۔ میلیفیرا مکھی کے خانے قریباً 1/5انچ کے برابر ہوتے ہیں جبکہ سیرانا مکھی کے یہ خانے 1/6انچ کے برابر ہوتے ہیں۔نکھٹو کے خانے قریباً 1/4 انچ کے قریب بڑے ہوتے ہیں۔ عام طورپر کارکن مکھیوں کے خانے نکھٹو ؤں کے خانوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔
ان دونوں طرح کے خانوں میں شہد اور پولن بھی جمع کیا جاسکتا ہے۔
ملکہ کے خانےصرف اس وقت بنتے ہیں جب نئی ملکہ کی ضرورت ہو۔ عام طورپر مکھیاں'پلےکپس' (Play Cups)بناتی رہتی ہیں۔ یہ ملکہ کے ادھورے خانے ہوتے ہیں۔ ملکہ کے خانے اس وقت بنتے ہیں جب کالونی کوسوارمنگ کی خواہش ہو، یا ملکہ بہت بوڑھی ہو جائے اور یا جب ملکہ کو کوئی حادثہ وغیرہ ہو جائے۔ ملکہ کے خآنے عمودی، نیچے کی جانب اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ملکہ کے خآنے تین طرح کے ہو سکتے ہیں۔
سوارم خانے (Swarm Cells) عام طور پر کوم کی اطراف یا کوم کے نیچے کی جانب بنیں گے۔
سپر سیڈیور خانے (Supersedure Cells) تعداد میں چند اور کوم کی سطح پر ہوتے ہیں۔
ایمرجنسی خانے (Emergency Cells) سیدھے چھتے کی مِڈرِب (Midrib) یعنی ہموار سطح سے بنتےہیں۔ ایسی صورتحال میں عام کارکن کے انڈے کو استعمال میں لا کر ملکہ کو بنایا جاتا ہے۔
بروڈ کی ماہیت (Brood Shape)
بروڈ ایک گولے کی شکل میں چھتے میں نیچے کی جانب موجود ہوتا۔ اس گیند نما بروڈ کے ارد گرد دو انچ موٹی پولن کی پرت ہوگی۔ پولن کے باہر سب شہد بھرا جاسکتا ہے۔ چھتے کے درمیان میں سے ایک کوم حقیقت میں اس چھتے کا باریک عمودی حصہ ہوتا ہے۔ اس کوم میں بروڈ کا دائرہ قریباً گول اور سب سے بڑا ہوگا۔ بروڈ کے دائرہ کے باہر پولن کا دائرہ اور اسکے بعد شہد۔ اس کوم کے دائیں بائیں جتنے بھی کومز ہونگے ان میں بتدریج بروڈ کا دائرہ چھوٹا ہوتا چلا جائے گا۔ جدھر بروڈ کا گولا ختم ہوگا اس کے بعد کے کومز میں پولن کی بے انتہا مقدار موجود ہوگی۔ ان پولن سے بھرے کومز کے بعد پھر شہد سے بھرے کومز ملیں گے۔ملکہ سب سے پہلے انڈے چھتے کے درمیان میں دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ باہر کی طرف دیتی جاتی ہے۔ اس طرح سب سے پہلے مکھیاں درمیان میں سے نکلیں گی۔
Tuesday, September 10, 2013
شہد کی مکھیوں کا خاندان
شہد کی مکھیوں کا خاندان
شہد کی مکھیوں کے گھونسلے کو چھتہ (Hive)کہتے ہیں۔ کوم (Comb) سے مراد اس چھتے کے اندر ایک خآنہ دار مومی دیوار ہے. دیوار کے ان چھ کونہ خآنوں میں مکھیاں اپنے بچوں کیساتھ ساتھ شہد اور پولن بھی جمع کرتی ہے۔
پورا چھتہ یعنی (Hive) بذاتِ خود ایک مکمل اکائی ہے۔ اس اکائی میں سے ایک بھی حصہ اگر کم ہو جا ئے تو پوری اکائی ختم ہو جاتی ہے۔ میلیفرا مکھی کی ایک کالونی یعنی چھتہ یعنی (Hive) میں قریباً اسی ہزار کے قریب کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جبکہ سیرانا مکھی کے ایک چھتے میں بیس ہزار سے لیکر چوبیس ہزارتک کارکن مکھیاں کام کرتی ہیں۔ ہر چھتےمیں کئی سو نکھٹو ہوسکتے ہیں مگر ہر حال میں ایک ملکہ ہی موجود ہوگی۔
ملکہ
ملکہ مکھی ایک مکمل مادہ ہوتی ہے۔ یہ نکھٹو کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈے دینے والی مشین بن جاتی ہے۔ کارکن مکھیاں ملکہ کو زیادہ پروٹین والی غذا دیتی ہیں۔ اس غذا کا تعلق ملکہ کے انڈے دینے کی صلاحیت کے ساتھ ہے۔ یہ کومز میں چلتی پھرتی ہے اور خالی چھ کونہ خانوں میں انڈے دیتی ہے۔ زندگی میں پہلی بار ملاپ کے بعد واپس آ جاتی ہے اور پھر چھتے کے اندر ہی رہتی ہے۔ اسکا پیٹ ملاپ کے بعد بہت لمبا اور قدرے زیادہ سیاہ بھی ہوتا ہے۔
نکھٹو
نکٹھو چھتے کے نر جاندار ہیں۔ ان کی زندگی کا بس یہی کام ہے کہ یہ کنواری ملکہ سے ملاپ کے بعد اس کو ڈھیر سارے سپرم دیے دیتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ باہر جا کر کام بھی نہیں کرتے۔ یہ اس حد تک سست ہوتے ہیں کہ اپنی خوراک خؤد نہیں لیتے بلکہ کارکن مکھیوں سے مانگتے پھرتے ہیں۔ ایک چھتے کے نکٹھو کسی بھی دوسرے چھتے کی ملکہ کے ساتھ ملاپ کرسکتے ہیں۔ ملکہ اور نکھٹو کا ملاپ ہوا میں ہوتاہے۔ نکھٹو اس ملاپ کے دوران ہی مر جاتا ہے اور ملکہ اور نکٹھو اکٹھے زمین پر آ گرتے ہیں۔ جب پھولوں کا موسم ختم ہو جاتا ہے تو ان کو چھتے سے نکال دیا جاتا ہے اور یہ ویسے ہی مرجاتے ہیں۔
نکھٹو، کارکن مکھیوں اور ملکہ کی نسبت بڑے اور بھاری بھرکم ہوتے ہیں۔ ان کے پیٹ کا سرا نوکیلا ہوتا ہے اور نہ ہی ان میں ڈنگ کی صلاحیت ہوتی ہے۔
کارکن
کارکن مکھیاں نامکمل مادہ ہوتی ہیں۔ ان کا جیسا نام ہے ویسا ہی کام بھی۔ یہ چھتے کا سارا کام کرتی ہیں۔ ان کے ذمے:-
- چھ کونہ خانوں (Cells) کی صفائی کرنا
- لاروے کو خوراک دینا
- نئے کوم (Comb)بنانا
- پورے چھتے (Hive) کی صفائی اور رکھوالی کرنا
- چھتے (Hive) کو پروں کی ہوا (Fanning) سے ٹھنڈا رکھنا
- شہد کو تیار کرنا
- پانی، نیکٹراور پولن کو باہر سے اکھٹا کرنا وغیرہ ہیں۔
ملیفیرا کارکن مکھیوں کی عمر سردیوں میں، جب کام نہیں ہوتا، چھ ماہ تک ہوتی ہے مگر جب پھولوں کا موسم ہوتا اور ڈھیر کام ہوتا ہے تو یہ مکھیاں تھک کر چھ ہفتے کے بعد ہی مر جاتی ہیں۔ سیرانا کارکن مکھیاں کام کے موسم میں تین سے چھ ہفتے تک زندہ رہتی ہیں۔
Saturday, September 7, 2013
شہد کی مکھیوں کی انفرادی خوبیاں
شہد کی مکھیوں کی انفرادی خوبیاں
شہد کی مکھیوں کا تعلق خاندان اےپیڈی (Family Apidae) سے ہےاور یہ خاندان قدرتی طور پر یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں پایا جاتا تھا۔ اس خاندان کے تمام مکھیوں کے کوم (Comb):
- عمودی یعنی Vertical اور
- دوہری سطح یعنی (Double-sided) والے ہوتے ہیں۔
پہاڑی مکھی
Apis cerana Fabricius (1793)
شہد کی پہاڑی مکھی ہمارے ملک کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ پہاڑی علاقوں کے لوگ انہیں اپنے گھروں کی دیواروں میں بنائے گئے مخصوص رخنوں میں پالتے ہیں۔ قدرتی طور پر یہ بند جگہوں میں اپنے متوازی چھتے بنا
لیتی ہے۔ یہ مکھی اپنی ان مخصوص عادت کی وجہ سےلکڑی کے بنائے گئے مخصوص گھروں میں پالنے کےلئے موزوں ہے اور اسے ہم پالتو مکھی کہ سکتے ہیں۔ ان کے چھتےمیں پروپولس کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے چھتے کو موم کا کیڑا لگ
جاتا ہے۔ ایک چھتے سے چار سے چھ کلو شہد مل جاتا ہے۔ ان میں سوارمنگ رجحان
ملی فیرا کی نسبت زیادہ ہے۔ مکھیوں کی یہ قسم طبعاً شریف مزاج اور محنتی ہے۔
ہر شہد کی مکھی کے پیٹ کے نو حصے ہوتے ہیں۔ میدانی علاقوں کی سیرانا مکھیوں کے پیٹ کے دو سے لیکر چار حصے پیلے رنگ کے ہو تے ہیں۔ کارکن مکھی کے خانے 4.23 ملی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں۔ سیرانا مکھی ملیفیرا مکھی سے چھوٹی ہوتی ہے۔ اس کے پچھلے پر اور ملیفیرا کے پچھےپر میں رگیں قریباً ایک جسی ہیں مگر سیرانا کے پرمیں ایک چھوٹی سی رگ پر کے چوڑائی والے حصے میں اضافی ہوتی ہے۔
![]() |
| Apis cerana |
یورپین مکھی
Apis millifera Linnaeus
اس کا اصل وطن پورپ ہے مگر اس کو امریکہ اور آسٹرالیشاء میں بہت کامیابی سے پالا جا رہاہے۔ اس کی پانچ مختلف ذیلی اقسام (Races) ہیں۔ اطالوی قسم لائگسٹیکا (ligustica) مگس بانوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ 'سیرانا' سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کے بپیٹ کے پہلے تین حصوں پر پیلی پٹیاں ہوتی ہیں اور بال سرخ ہوتے ہیں۔ تمام صنعتی بنیادوں پر کام کرنے والے مگس بان اس ہی کو پال کر منافع کماتے ہیں۔ دوسری قسم 'کارنیکا' (carnica) کچھ مگس بانوں کی پسندیدہ قسم ہے مگر یہ سوارمنگ کا رجحان رکھتی ہے۔ تیسری قسم 'قاکیزیکا' (caucasica) گہرے رنگ کی مکھی ہے جس کے چھتے کے اندر داخل ہونے کے رستے کے علاوہ باقی کے چھتے میں بے شمار پروپولس (Propolis) موجود ہوتا ہے۔ جرمنی کی 'اسکینڈی نےویا' (Scandinavia) اور برطانیہ کی 'لہزےنی' (Lehzeni) وغیرہ کی زبان باقی قسموں کی نسبت چھوٹی ہے۔
افریقی قسم 'ایڈانسونی' ( Apis mellifera adansoni) افریقہ بھر شہد کےلئے پالی جاتی ہے۔ مگریہ کچھ حد تک جلدی حملہ کردینے والی ہے۔ مصر میں 'لےمارکی' (Lamarkii) اور تیونیزیا میں 'انٹرمیزا' (intermissa) اقسام موجود ہیں۔ 'انٹرمیزا' سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور اس کے پیٹ پر ہلکے سیاہ یعنی 'گرے' بال ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 'میڈاغاسکر' جزیروں (Madagascar Islands) کی قسم یونیکلر ((unicolor Latreille (1804) مکمل طورپر کالی ہے اور اس کے پیٹ پر سیاہ بال بھی نہیں ہوتے۔
اس کے ایک چھتے سے قریباً تیس سے پچپن
کلو تک کا شہد مل جا تا ہے۔ اس میں کئی ایسی خوبیاں ہیں جسکی وجہ سے نہ صرف
پاکستان بلکہ دنیا بھر کے دوسرے ملکوں میں اسی کو شہد حاصل کرنے کےلئے
پالا جاتا ہے۔ پہلی خوبی یہ ہے اس کی ملکہ میں انڈے دینے کی بے انتہا
صلاحیت ہے۔ اس کی دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں سوارمنگ رجحان کم ہے۔
یعنی چھتہ تیار ہونے پر مکھیاں اپنا غول لیکر اڑ نہیں جاتی اور یوں کالونی
ٹوٹتی نہیں۔ تیسری خوبی یہ ہے کہ یہ صرف تاریک جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ اس
کا مطلب یہ ہے کہ اسکے چھتے کھلی جگہوں پر نہیں ملے گے اوریہ مگس دانوں
میں ہی چھتہ بنائے گی۔
ڈومنا /بڑی مکھی
Apis dorsata or Giant Honeybee
سائز میں باقی مکھیوں سے بڑی ہوتی ہے۔ چھتے کو چھیڑنے والے کے درپے ہو جاتی ہے اور دور تک اس کا پیچھا کرتی ہے۔ بعض اوقات لوگ اس کے ڈنگ کے شکار ہونے بعد موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ یہ صرف کھلی جگہوں پر ہی رہتی ہے اسی وجہ سے اس کو ڈبوں میں پالنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔
اس کے چھتےقدرتی طورپر بڑے ہوتے ہیں اور اسی لئے بڑے اونچے درختوں پر نظر آتے ہیں۔ چھتے ایک سے دو میٹر تک لمبے اور تین فٹ تک چوڑے ہوتے ہیں۔ چھتے کے اوپر والا حصہ تین سے چار انچ موٹا ہوتا اور اس حصے میں شہد کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ چھتے کا نچلا حصہ ڈیڑھ انچ تک موٹا ہوتا ہے اور اس حصے میں ان کے بچے پرورش پارہے ہوتے ہیں۔ چھتے کے خانے 1/5 انچ کے برابر ہوتے ہیں اور یہی سائز 'ملیفیرامکھی' کے خانوں کا بھی ہے مگر ڈومنا کے خانوں کی گہرائی دگنی ہوتی ہے۔ اس کے نکھٹو اور کارکن مکھیوں کے خانوں کا سائز برابر ہوتا ہے۔
ایک چھتے سے تیس سے چالیس کلو کا شہد مل جاتا ہے۔ اس میں سوارمنگ رجحان بہت زیادہ ہے اس وجہ سے بھی اس کو ڈبوں میں نہیں پالتے۔ یہ سطح سمندر سے لیکر گیارہ سو میٹر کی بلندی تک ہجرت کرتی نظر آتی ہے۔ یعنی کہ ایک موسم میں یہ کسی میدانی علاقے میں ہو گی اور دوسرے موسم میں یہ پہاڑوں پر چلی جائے گی۔ اس طرح یہ مکھی خانہ بدوش مکھی ہے۔
چھوٹی مکھی
Apis florea or Little Honeybee
'اےپس' جینس میں سب سب چھوٹے سائز کی مکھی ہے۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے یہ چھوٹے چھوٹے پھولوں میں سے ہی
نیکٹر حاصل کرتی ہے۔ یہ پھول باقی اقسام کی مکیھوں کے بڑے ماؤتھ پارٹس کی
وجہ سے ان کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کے چھوٹے چھتے جھاڑیوں اور چھوٹے درختوں کی شاخوں سے لٹکے نظر آتے ہیں۔ اس کے خانوں (Cells) کا سائز قریباً 1/10 انچ تک ہوتا ہے اسی لئے کم مقدار میں شہد حاصل ہوتا ہے۔ مگر اس کا شہد دوائیوں وغیرہ کےلئے ضرور حاصل کیا جاتا ہے۔ باقی مکھیوں میں سائز میں چھوٹی ہونے کے علاوہ اس کے پیٹ کا پہلا حصہ یعنی سیگمینٹ بڑا اور پیلا ہوتا ہے۔
اس کو مگس دانوں کے اندر نہ پالنے کی
کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً اس میں سوارمنگ رجحان بہت زیادہے۔ دوسرا یہ کسی حد
تک ڈومنا کی طرح خطرناک ہے مگر ڈومنا جیسی خطرنا ک نہیں۔قدرتی طورپر اس کے
چھتے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور ایک چھتہ سے چند اونس ہی شہدحاصل ہوتاہے۔
Friday, September 6, 2013
مگس بانی کی اہمیت
﷽
![]() |
| شہد کی مکھی |
شہد کی مکھیاں پالنے کے فن کو" مگس بانی" کہتے ہیں۔ مگس بانی نہ صرف ایک
مفید مشغلہ ہے بلکہ منافع بخش ذریعہ معاش بھی ہے۔ اسےوسیع پیمانے پر
اختیار کر کے ہم اپنی ضروریات کے علاوہ قومی آمدنی میں اضافہ کا ذریعہ بھی
بن سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شہد کو "نحل" کے
نام سے پکارا ہے اور اسی کے نام سے ایک سورۃ کا نام بھی ہے۔ اس سے اس غذا
کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔
افادیت/فوائد
شہد کی مکھیاں ہمارے لئے پھل دار درختوں ، مختلف فصلوں اورسبزیوں میں عمل زیرگی
(Pollination) کے ذریعہ ان کی پیداوار میں اضافہ کےلئے معاون ثابت ہوتی
ہیں۔ اس سے پودوں میں بہتر جنیاتی تبدیلی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
- شہد ان کی سب سے کار آمد پیداوار ہے۔ جو کارپوہائیڈریٹ ہونے کی وجہ سے مقوی غذا ہے۔
- شہد کی مکھیاں زرِگل یعنی (Pollen) جمع کرتی ہیں جو کہ لحمیات کا ذخیرہ ہیں۔
- شہد کی مکھی کا جمع کردہ سریش (Propolis) پودوں سے حاصل کیا گیا 'ریزن' ہے۔ یہ جراثیم کش ادویات میں استعمال ہوتاہے۔
- شہد کی مکھی کا دودھ (Royal Jelly) دایہ کارکن مکھیوں کے حلق کے غدود سے نکلتا ہے۔ یہ بھی لحمیات کا ذخیرہ ہے۔ اس کو کاسمیٹکس اور فوڈ سپلیمینٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔
- شہد کی مکھیاں خالص موم پیدا کرتی ہیں جو کہ بوٹ پالش، کریم، آرائش و زیبائش کی مصنوعات کے علاوہ ان گنت دوسرے کاموں میں بھی استعمال ہو تی ہے۔
- شہد کی مکھی کا ڈنگ انسانی جسم میں ریح کے درد اور جوڑوں کی سوجن کا موثر ترین علاج ہے۔
شہد کی مکھیوں کی اقسام
دنیا بھر میں کئی طرح
کی مکھیاں شہد پیدا کرتی ہیں مگر شہد کی مکھیوں کی چند اقسام ہی شہد حاصل
کرنےکےلئےدنیا بھر میں پانی جاتی ہیں۔ پاکستان میں چار مختلف اقسام سے
شہد حاصل کیا جاتا ہے۔ ان میں سے تین اقسام قدرتی طورپر پائی جاتی ہیں
جبکہ یوریپی مکھی درآمد شدہ ہے۔
- پہاڑی مکھی یعنی Apis cerana ۔ قدرتی طورپر موجود ہے۔
- ڈومنا یعنی بڑی مکھی یعنی Apis dorsata۔ قدرتی طورپر موجود ہے۔
- چھوٹی مکھی یعنی Apis florae ۔ قدرتی طورپر موجود ہے۔
- یورپین مکھی یعنی Apis millifera ۔ باہر سے منگوائی گئی ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)



