Friday, September 6, 2013

مگس بانی کی اہمیت


شہد کی مکھی

 شہد کی مکھیاں پالنے کے فن کو" مگس بانی" کہتے ہیں۔ مگس بانی نہ صرف ایک مفید مشغلہ ہے  بلکہ منافع بخش ذریعہ معاش بھی ہے۔  اسےوسیع پیمانے پر اختیار کر کے ہم اپنی ضروریات کے علاوہ قومی آمدنی میں اضافہ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے  قرآن پاک میں شہد کو "نحل" کے نام سے پکارا ہے اور اسی کے نام سے ایک سورۃ کا نام بھی ہے۔ اس سے اس غذا کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔

افادیت/فوائد

 شہد کی مکھیاں ہمارے لئے پھل دار درختوں ، مختلف فصلوں اورسبزیوں میں عمل زیرگی (Pollination) کے ذریعہ ان کی پیداوار میں اضافہ کےلئے معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے پودوں میں بہتر جنیاتی تبدیلی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
  1. شہد ان کی سب سے کار آمد پیداوار ہے۔  جو کارپوہائیڈریٹ ہونے کی وجہ سے مقوی غذا ہے۔
  2. شہد کی مکھیاں زرِگل  یعنی (Pollen) جمع کرتی ہیں جو کہ لحمیات کا ذخیرہ ہیں۔ 
  3. شہد کی مکھی کا جمع کردہ سریش (Propolis)  پودوں سے حاصل کیا گیا  'ریزن' ہے۔  یہ جراثیم کش ادویات میں استعمال ہوتاہے۔
  4. شہد کی مکھی کا دودھ (Royal Jelly)  دایہ کارکن مکھیوں کے حلق کے غدود سے نکلتا ہے۔ یہ بھی لحمیات کا ذخیرہ ہے۔ اس کو کاسمیٹکس اور فوڈ سپلیمینٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔
  5. شہد کی مکھیاں خالص موم پیدا کرتی ہیں جو کہ بوٹ پالش، کریم، آرائش و زیبائش کی مصنوعات  کے علاوہ ان گنت دوسرے کاموں میں بھی استعمال ہو تی ہے۔
  6. شہد کی مکھی کا ڈنگ انسانی جسم میں ریح کے درد اور جوڑوں کی سوجن کا موثر ترین علاج ہے۔

شہد کی مکھیوں کی اقسام

دنیا بھر میں کئی طرح کی مکھیاں شہد پیدا کرتی ہیں مگر شہد کی مکھیوں  کی چند اقسام ہی شہد حاصل کرنےکےلئےدنیا بھر میں پانی جاتی ہیں۔  پاکستان میں چار مختلف اقسام سے شہد حاصل کیا جاتا ہے۔  ان میں سے تین اقسام قدرتی طورپر پائی جاتی ہیں جبکہ یوریپی مکھی درآمد شدہ ہے۔
  1. پہاڑی مکھی یعنی Apis cerana ۔ قدرتی طورپر موجود ہے۔
  2. ڈومنا یعنی بڑی مکھی  یعنی Apis dorsata۔  قدرتی طورپر موجود ہے۔
  3. چھوٹی مکھی  یعنی Apis florae ۔ قدرتی طورپر موجود ہے۔   
  4. یورپین مکھی یعنی  Apis millifera ۔ باہر سے منگوائی گئی ہے۔

No comments:

Post a Comment